_✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔_*
استفاضۂ شریعہ سے متعلق وارث علوم اعلیٰ حضرات، تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا صاحب (علیہ الرحمہ) ، قاضی القضاۃ فی الہند کا ایک رسالہ “جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت” اس وقت میرے پیش نظر ہے، رسالہ کا پورا مضمون تحقیق انیق سے لبریز ہے، مجھے اس پر کچھ پیش لفظ لکھنے کی جرات نہیں، لیکن چونکہ آپ کے علمی طرز زبان اور فقہی اصطلاحات کی وجہ سے سطحی ادراک رکھنے والوں کے لیے مضمون کی گہرائی تک پہنچنے میں زحمتیں ہے، اس لیے کچھ توضیحی کلمات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
حنفیہ کے نزدیک خبر مستفیض ، خبر متواتر کا مترادف ہے، اس لیے کلام فقہا میں اگر کہیں استفاضۂ خبر کا ذکر ملتا ہے تو وہ تواتر خبر کے معنی میں ہے جیسا کہ درج ذیل عبارتوں کے توافق سے ظاہر ہے. بحر الرائق میں ہے: *قال الامام الحلوانی من مذہب اصحابنا ان الخیر اذا استفاض من بلدۃ اخری و تحقق یلزمھم حکم تلک البلدۃ۔*
*📚(ج ۲، ص ۴۷۱)*
اور تاتار خانیہ میں ہے ” *وعن محمد لا یعتبر حتٰی یتواتر الخیر من کل جانب ھکذا روی عن ابی یوسف۔*
*📚(ج۱،ص ۱۹۶)*
ہمارے اس دعویٰ پر علامہ شامی کی درج ذیل عبارت روشن دلیل ہے : *اعلم ان المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی البلدۃ التی لم یثبت بھا لا مجرد الاستفاضة۔*
*📚(مخته الخالق حاشیہ البحر الرائق ج۲ /ص ۲۷۰)*
ان عبارتوں کے بعد علامہ رحمتی رحمۃ اللہ علیہ کی درج ذیل عبارت ” *معنی الاستفاضة ان تاتی من تلک البلدة جماعات متعددون” الخ* میں استفاضہ بمعنی تواتر خبر متعین ہے . یعنی محض شہرت خبر یہ محدثین کے اصول پر خبر مستفیض ہونا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ خبر دینے والے اتنے افراد پر مشتمل ہوں کہ جن کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو جائے، اور مخبرین کی کثرت تعداد کے سبب ان کا کذب پر متفق ہونا عادۃ محال ہو جائے۔
لہٰذا استفاضۂ خبر کے لیے موبائل اور ٹیلیفون سے خبر دینا ہرگز معتبر نہیں، اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: *شریعت مطہرہ نے درباره ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پربنا فرمایا اور اُن میں بھی کافی و شرعی ہونے کے لیے بہت قیودو شرایط لگائیں، جن کے بغیر ہرگز گواہی و شہرت بکار آمد نہیں۔*
*📚(فتاویٰ رضویہ ج۴، ص ۵۲۳)*
