*وہابی، تبلیغی، رافضی وغیرہ باطل فرقوں کے ساتھ وقت کی نزاکت کی دہائی دے کر ایکتا اور سارے اعتقادی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہونے کا راگ الاپنے والے اور دلیل میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے ایک حکیمانہ فتویٰ کو پیش کرنے والوں کا جواب*
سب سے پہلے استفتاء اور آپ کے فتویٰ کے الفاظ پڑھیے۔
پادرا وڈودرا گجرات سے ایک سوال آیا تھا
*استفتــــــــــــاء*
ریاست بڑودا کے اندر مسلمانان بڑودا راج کانفرنس نامی ایک انجمن واسطے حقوق طلبی و تحفظ اسلام قائم کی ہوئی ہے۔ یہ انجمن بیچ کوئی مذہبی امور کے دخل کرنے کے واسطے نہیں ہے صرف یہاں کے ہنود راجہ و ہنود رعایا کے سامنے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا کام کرنے والی ہے. اس لیے اس میں بلا قید ہر فرقے کے کلمہ گو شامل ہو سکتے ہیں۔ کیا اس انجمن میں سنی حنفی مسلمانوں کو شریک ہونا جائز ہے ؟ بينوا توجروا
از پادرا گجرات مرسلہ جمال بھائی قاسم بھائی
*الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ*
ایسی انجمن میں شرکت برائے تحفظ حقوق اہل سُنت بمقابله فرق باطلہ و تحفظ حقوق اسلام بمقابله اعدائے اسلام ضروری ہے۔ فرق باطلہ کے ساتھ وہ مجالست نا جائز و حرام ہے جو بر بنائے محبت و موالات ہو۔ نیز وہ جو بے ضرورت و حاجت و مصلحت شرعيه ہو۔ نہ وہ جو برائے تبلیغ و رد ہو۔ و الله تعالیٰ اعلم۔
یہ مکمل سوال و جواب کی عبارتیں ہیں۔
سب سے پہلے فتویٰ کا تجزیہ اور معنی کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں تا کہ بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔
*فتویٰ کا پہلا ٹکڑا اور اس کا مطلب*
*تحفظ حقوق اہل سُنت بمقابله فرق باطلہ*
اس عبارت کا مطلب ہے باطل فرقے مثلاً وہابی دیوبندی رافضی وغیرہ کے مقابلہ میں اہل سنت کے حقوق کی حفاظت کرنا اس انجمن کا مقصد ہو ۔۔ نہ کہ ایمان و کفر کو ایک کرنے کا مشن ہو۔
اس عبارت سے صاف واضح ہے کہ یہ فتویٰ وہابیوں وغیرہ بد مذہبوں کے ساتھ سلام کلام اُلفت و محبت کے بارے میں ہے ہی نہیں بلکہ اسی پہلے جملہ سے صلح کلی ایکتا کے باطل نظریہ کا رد کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا جس انجمن میں عقیدہ اہل سُنت کی حفاظت نہ ہو پائے اس میں شرکت ہر گز جائز نہیں ہو گی۔
*فتویٰ کا دوسرا ٹکڑا اور اس کا مطلب*
*و تحفظ حقوق اسلام بمقابله اعدائے اسلام*
اس عبارت کا مطلب ہے کہ اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں اسلام کے حقوق کی حفاظت اس انجمن کا مقصد ہو۔ نہ کہ کفر اور شرک کو ایک کرنا مقصد ہو۔
*فتویٰ کا تیسرا ٹکڑا اور اس کا مطلب*
فرق باطلہ کے ساتھ وہ مجالست نا جائز و حرام ہے جو بر بنائے محبت و موالات ہو۔ نیز وہ جو بے ضرورت و حاجت و مصلحت شرعيه ہو۔
یعنی باطل فرقوں مثلاً تبلیغی خارجی وغیرہ کے ساتھ اُن کے لیے دل میں نرمی محبت اور بھائی چارے کے ساتھ بیٹھنا نا جائز و حرام ہے ۔ ساتھ ہی ان کے ساتھ میٹنگ کرنے میں نہ کوئی شرعی ضرورت ہو نہ دینی حاجت ہو نہ کوئی مذہبی فائدہ تب بھی حرام ہی ہے۔
اور یہاں تو معاملہ ہی بر عکس ہے، وہابیوں کے ساتھ سلام کلام کھانا پینا اُن کا دفاع آن کے تعلق سے نرمی برتنے والے صلح کلیت کے وائرس زدہ لوگ اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لیے اس صلح کلیت شکن مبارک فتویٰ کا نا جائز سہارا لے کر اپنے الحادی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔
🌼 نیز اس فتویٰ میں یہ کہاں ہے کہ مذہبی و اعتقادی اختلاف کو بھلا کر ان سے ایک ہو جائیں ۔۔ *ہرگز ہرگز نہیں ہے ۔۔۔* اگر کوئی یہ مطلب نکالتا ہے تو یقینا یہ سرکار مفتی اعظم ہند پر بہتان لگاتا ہے۔ استغِرُاللہ
کیوں کہ ان سے ہمارا اختلاف تھا ہے اور رہےگا یہ اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب کہ سنیت کے سچے عقائد کو وہ تسلیم و قبول کرلیں اور اپنی بد مذہبی سے سچی توبہ کر کے سنی ہو جائیں۔
🌼 نیز اس فتویٰ میں ایسی انجمن میں اہل سُنت کے حقوق کی حفاظت کے لیے سنیت کا نمائندہ بن کے شریک ہونے کی بات ہے۔ یہ کہاں فرمایا کہ وہابیوں کے ساتھ شریک ہو جاؤ۔ اُن سے ہاتھ ملا لو ، اُن سے ایک ہو جاؤ ؟؟
الحمدللہ ہم نے پورے فتویٰ کی درست وضاحت کر کے بتا دیا کہ ایکتا اور صلح کلیت کی بین بجانے والے اس فتویٰ سے عوام کو جو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بالکل غلط اور باطل ہے۔ اور اس فتویٰ سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر ان سے اتفاق کر لیا جائے۔
لہٰذا سنی عوام سے گزارش ہے کہ وہ ہر حال میں وہابی دیوبندی رافضی وغیرہ بد مذہبوں سے دور ہی رہیں انہیں اپنے قریب نہ آنے دیں نہ خود ان سے قریب ہوں اسی میں ایمان و اسلام کی حفاظت ہے۔
*✍🏻حضرت علامہ حافظ محمد توفیق خان رضوی مصباحی صاحب قبلہ*
خادم علم شریف
دار العلوم مصطفائيه، ہلدروا
گجرات ۔
صدر جماعت رضائے مصطفی پٹلاد، آنند گجرات 7698502040
*تصدیقات*
⬅️ حضرت علامہ مفتی اشرف رضا صاحب قادری برہانی
مہتمم جامعہ مدینۃ العلوم رتنپور کھیڑا گجرات
*ما شاء اللہ میں نے پورے فتویٰ کو پڑھا وقت کے حساب سے اچھی وضاحت فرمائی ہے ۔ میں اس کی تصدیق اور تائید کرتا ہوں۔*
⬅️ فاضل جامع ازہر مصر حضرت علامہ مفتی جنید صاحب ازہری قادری
نڈ یاد گجرات
*ما شاء اللہ فتویٰ کا بالکل صحیح مطلب اور صحیح مفہوم آپ نے بیان کیا اور بہت اچھی ترجمانی کی۔*
⬅️ حضرت علامہ اسماعیل امجدی صاحب قبلہ
سورت گجرات
*حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے فتویٰ کی آپ نے بالکل درست وضاحت فرمائی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔*
⬅️ حضرت علامہ مفتی عبد الستار رضوی صاحب قبلہ
استاذ و مفتی مدرسہ ارشد العلوم عالم بازار کلکتہ
*الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم*
